بادشاہ پرست

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جس کے دل میں بادشاہوں اور بادشاہت کا وقار و اقتدار راسخ ہو، جو طبعاً شاہی کے طریقے پر یقین رکھتا ہو، جو سلطان اور حکام سے مرعوب ہو۔ 'ہندوستان ایک خالص مشرقی ملک اور بادشاہ پرستوں کی بستی ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ٣/١، ٨٣ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'بادشاہ' کے ساتھ مصدر 'پرستیدن' سے مشتق صیغۂ امر 'پرست' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'بادشاہ پَرَست' مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٩٢٦ء میں شرر کے مضامین میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس کے دل میں بادشاہوں اور بادشاہت کا وقار و اقتدار راسخ ہو، جو طبعاً شاہی کے طریقے پر یقین رکھتا ہو، جو سلطان اور حکام سے مرعوب ہو۔ 'ہندوستان ایک خالص مشرقی ملک اور بادشاہ پرستوں کی بستی ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ٣/١، ٨٣ )

جنس: مذکر